Showing posts with label urdu. Show all posts
Showing posts with label urdu. Show all posts
زندگی میں کامیابی کے لئے ایک اچھا اداکار ہونا ضروری ہے
اس زندگی میں کامیابی کے لئے ایک اچھا اداکار ہونا ضروری ہے....
آپ کو ہر جگہ ، ہر شعبے میں اداکاری کرنی پڑتی ہے...
اداکاری...... دوسرے لفظوں میں ریاکاری ...منافقت...
آپ کو وہ نظر آنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے جو آپ ہیں نہیں...
اندر کچھ....باہر کچھ...


Rauf Kalsra's new Column


Bus ik Ishara chahaye by Rauf Klasra

(ملفوضات حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ )

ایک عورت سے کھانے میں نمک تیز ہوگیا ۔ شوہر کھانے کے لیے بیٹھا تو اتنا تیز نمک دیکھ کر اس غصہ آگیا ۔ غریبآدمی تھا چھ ماہ بعد مرغی کا گوشت لایا تھا ۔ چھ ماہ سے دال سبزی کھا کھا اس کی زبان گوشت کھانے کے لیے بے چین تھی مگر بیوی نے نمک تیز کرکے سارا سالن خراب کردیا ۔
اس نے بیوی کو کچھ نہ کہا چپ چاپ کھا لیا اور کہا اے اللہ اگر میری بیٹی سے نمک تیز ہوجاتا تو میں یہ پسند کرتا کہ میرا داماد اسے معاف کردے ۔ میرے جگر کے ٹکڑے کو کچھ نہ کہے ۔ میری بیوی بھی تو کسی کے جگر کا ٹکڑا ہے ، کسی ماں باپ کی بیٹی ہے ، اور سب سے بڑھ کر تیری بندی ہے ۔ اے خدا میں اسے تیری رضا کے لیے معاف کرتا ہوں ۔
کچھ عرصہ بعد جب اسکاانتقال ہوگیا تو ایک اللہ والے نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا بھائی تیرے ساتھ کیا معاملہ ہوا ۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے اللہ کے سامنے پیش کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے میرے گناہ گنوائے کہ تو نے فلاں گناہ کیا فلاں گناہ کیا ۔ میں نے سمجھ لیا کہ میں اب ان گناہوں کی وجہ سےجہنم میں جاؤں گا ۔
لیکن اللہ نے آخر میں فرمایا کہ جاؤ میں نے تمہیں اس وجہ سے معاف کیا کہ تم نے اپنی بیوی کو اس دن میری بندی سمجھ کر معاف کیا تھا جس دن اس سے نمک تیز ہوا تھا ، تو نے اسے گالی نہیں دی تھی ڈنڈا نہیں مارا تھا ۔ تم نے اس کی خطا 
میری رضا کے لیے معاف کی تھی تو آج میں تم کو معاف کرتا ہوں

شیخ الاسلام غریبوں سے نوٹ مانگتے; جو انقلاب غریبوں سے نوٹ مانگنے سے آئے، وہ انقلاب نہیں عذاب ھے by Haroon Rasheed (Journalist)

ہمارے لئے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک ایک بہترین نمونہ ھے جس میں ہر کام کی موثر رہنمائی موجود ھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال محنت کی، لوگوں نے آپ پر اتنے پتھر برسائے کہ آپ کے پاؤں مبارک خون سے لت پت ہوگئے اور جوتیاں چپک گئیں، آپ پر کوڑا گرایا جاتا رھا، آپ پر اور آپ کے اہل و عیال پر زندگی تنگ کردی گئی لیکن پھر بھی آپ اپنی محنت اور لگن سے اسلام پھیلانے میں کامیاب ہوگئے۔
اس کیلئے نہ تو آپ نے غریبوں سے نوٹ مانگے اور نہ ہی ووٹ۔ آپ نے کسی موقع پر اپنے آپ کو مکے یا مدینے کے حاکم کے طور پر پیش نہیں کیا کیونکہ آپ کے مقاصد اس سے بہت بلند تھے۔ آپ کے نزدیک لوگوں کے اخلاق اور ایمان کی تعمیر ضروری تھی اور اس سے تبدیلی اور انقلاب خود بخود آجانا تھا۔
آج کے دور کے شیخ الاسلام کھلے عام جلسوں میں اپنے آپ کو حکمران بنوانے کے نعرے لگواتے ہیں، غریبوں سے نوٹ مانگتے ہیں، ان کے بچوں سے کہتے ہیں کہ اپنے جیب خرچ سے انقلاب فنڈ کو رقم دو تاکہ یہ انقلاب لے آئیں۔
جو انقلاب غریبوں سے نوٹ مانگنے سے آئے، وہ انقلاب نہیں عذاب ھے اور ایسی باتیں کرنے والا لیڈر نہیں بلکہ فتنہ ھے۔
جتنی جلد یہ بات سمجھ میں آجائے، اتنا ہی بہتر ہوگا!!!